اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
تحرير : ڈاكٹر سيد شفقت حسين شيرازی
ہر با ضمير اورغيرت مندخواه وه مسلم ہو يا غير مسلم اور عرب ہو يا عجم مزاحمت اسلامی حزب الله اور مقاومت كو قدر كی نگاه سے ديكهتا ہے. كيونكہ قومی انحطاط ، مذہبی انتشار اور دينی اقدار سے دوری كے اس دور ميں جب استكباری اور صہيونی قوتيں انسانيت كی تذليل اور آزاد و خود مختار ممالک كی تضحیک كر رہی ہیں. ايسے نازک دور ميں ايک مختصر سی جماعت " حزب الله لبنان" جو تمام تر مذاهب واديان اور رنگ ونسل كی قيود سے بالاتر ہو كر ظالم ومظلوم ، مستكبر ومستضعف اور ناجائز تسلط وقبضہ اور حريت وآزادی كے مفاہیم كو اجاگر كرتے ہوئے مظلوم و مستضعف اقوام كيلئے حريت وآزادی كی اميد بن جاتی ہے. اور دوسری طرف بعض ضمير فروش اور استعماری وصهيونی ايجنٹ حكمران ہیں کہ جو حزب الله كودهشتگرد قرار ديكر صہيونی اور مغربی وفاداری كا حق ادا كرتے ہیں . اور يہ وه ڈکٹیٹر وملوک اور امراء ہیں كہ جن كے ہاتھ لاكهوں، عراقی، شامی، يمني اور ديگر ممالک كے بيگناه شہريوں كے خون سے رنگين ہیں. داعش ، النصرہ ، القاعدہ اور طالبان كے طرز كے دهشتگرد مسلح گروه بنانے والے اور انہيں ہر قسم كی مدد اور پشت پناہی كرنيوالے ان دہشتگرد حكومتوں کو قطعا يہ حق حاصل نہیں ہے كہ وہ دہشتگردی كے سرٹيفكيٹ تقسيم كريں.
وه خليجی ممالک جو اپنی عوام كو خود سکیورٹی اور امن فراہم نہیں كر سكتے اور اس کے لئے دوسرے ممالک سے بھیگ مانگتے نظر آتے ہیں . انہوں نے پورے خطے كے امن كو تباه كر ديا ہے. وه خطے ميں امريكہ ، غرب اور اسرائيليوں كے سب سے بڑے ايجنٹ ہیں.اس لئے انہوں نے اپنے آقاؤں کے اشاروں اور تعليمات پر پورے جہان اسلام ميں تكفيريت اور مذہبی تعصب پهيلانے پر كهربوں ڈالرز كی سرمايہ کاری کی ۔ اور دين اسلام كی دشمنی ميں ابو جهل اور ابو لہب سے بهی بڑھ گئی .اور امت مسلمہ كی وحدت كو پاره پاره كيا وه اب يہوديوں كی تعليمات كے مطابق پورےخطے كو فرقہ واریت كی آگ ميں دهكيلنا چاہتے ہیں. انكی دہشتگردی كی تاريخ تو بہت لمبی ہے ہم يہاں پر فقط ماضی قريب ميں كیے جانے والے اقدامات كا تذكره كرتے ہیں.
خليجی حكومتوں اور امراء كی دہشتگردی كی چند مثاليں
1- انہوں نے اپنی فوجيں بحرين ميں داخل كر كے وہاں کی اكثريتی عوام كے حقوق كي جدوجہدكا گلا گھوٹنے كی كوشش كی.
2- پهر عراق كی تقسم كے ايجنڈے كو پورا كرنے كيلئے عراق كے داخلی امور ميں فقط مداخلت و مذهبي منافرت نہیں پهيلائی بلكہ اسے بارود كے ڈھیر پر لا كهڑا كيا .
3- ليبيا كی تباہی ميں يہ لوگ برابر كے شريک ہیں انہوں نے جمهوريت كے نام پر تاريخ ميں پہلی بار ايک برادر ملک پر مغربی ممالک سے ملكرچڑهائي كی اور فضائی حملوں ميں شريک ہوئے. گويا ان خليجي ممالک ميں عوام كوآزادياں نصيب ہیں اور جمهوريت كا نظام قائم ہے.
4- پانچ سال كا عرصہ گزر چكا ہے كہ يہی دہشتگرد امراء ملک شام كو تباه كرنے اور عوام كی منتخب حكومت كے خاتمے كيلئے ایڑی چوٹي كا زور لگا رہے ہیں. انكے مجرمانہ ہاتھ لاكهوں بے گناهوں كے خون سے رنگین ہیں. انہوں نے اس جنگ كے ذريعے اسرائيل كي وه خدمت كی ہے جس كا يہودی كبهی تصور بهی نہیں كر سكتے تهے.
5- خليجی امراء كا سب سے بڑا جرم يمن جيسے ہمسایہ مسلم ملک پر جنگ مسلط كرنا ہے. وه شخص جسے عوام مسترد كر چكی ہے اسے واپس حكومت پر لانے كے لئےاتنی بڑی تباہی اور پورے ملک كی بربادی اورہزاروں بيگناه معصوم بچوں اور خواتين كا قتل انكے مكروه چہروں پر وه بد نما داغ ہے جسے تاريخ بشريت كبهی فراموش نہیں كريگي. اور جب بهی سفاکوں اورانسانيت كے قاتلوں كے نام كی فہرست بنے گی تو يہ لوگ خليجي امراء اور حاكم سر فهرست ہونگے۔
تمام دنيا كو اوربالخصوص لبنانی عوام كوخبردار ہو جانا چاهيے كہ اب ان ظالم حكومتوں كاعراق وشام كی تباہی كے بعداگلا ہدف لبنان ہے اور وه اسرائيل كی خاطر وہاں پر خانہ جنگي كا نقشہ بنا چکے ہیں.اور اسرائيل كے خلاف مقاومت كاہراول دستہ ، حزب الله لبنان انكا اگلا ہدف ہے. اور وه حزب الله كو اسكی حمايت كرنے والی عوام سے جدا كرنا چاہتی ہیں. صہيونی ايجنٹ مشرق وسطى كی ابهرتی ہوئی قوت بلاک مقاومت كو مذہبی رنگ دينا چاہتے ہیں . اور اسرائيلی اہداف كی تكميل كرتے ہوئے سنی ممالک كے اتحاد كے ذريعہ آل سعود لبنانی وفلسطينی مقاومت كو ايک اور داخلی بحران ميں وارد كرنا چاہتے ہیں. خطے سے آشنائی ركهنے والا ہر شخص جانتا ہے كہ وه لبنانی مقاومت جس كی سربراہی حزب الله كے پاس ہے اس ميں فقط شيعہ مذہب كے لوگ نہیں بلكہ اس مقاومت ميں لبنانی اہل سنت ، مسيحي اور درزی مذہب كے لوگ بهی پیش پيش ہیں اور تمام سياسی ومذہبی وقومي جماعتيں اپنی اس مقاومت كی حفاظت كرتی ہیں.
تمام خليجی ممالک كی اسرائيل كے ساتھ پس پرده تعلقات تو بہت پہلے سے تهے ليكن اب تو فقط وفود كے تبادلے اور خطے كے مسائل پر مشورے ہی نہیں ہوتے بلكہ مشتركہ پاليسی بنا كر اور اسرائيل كا شريک كار بن كر ميدان ميں اتر چكے ہیں. بحرين كابادشاه جب اسرائيلی حکام کا پرتپاک استقبال كرتا ہے تو كہتا ہے كہ اسرائيل خطے كی محض طاقت ہی نہیں بلكہ خطے كا محافظ بهی ہے. حقيقی اہل سنت اعلان كر چكے ہیں كہ سعودی بادشاه كو حق نہیں كہ وه اہل سنت مذہب كی سربراهي كا دعوى كرے۔ وه اسرائيل جو پوری امت مسلمہ اور سب عرب عوام كا كهلا دشمن ہے اور انكے مابين كئی ايک جنگيں ہو چکي ہیں. جس نے مسلمانوں كے قبلہ اول اور انبياء كرام كی مقدس سرزمين فلسطين پر نا جائز قبضہ جما ركها ہے اور لاكهوں فلسطينيوں اور اہل سنت مسلمانوں كا قاتل ہے .اس خطے كے سب شيعہ وسنی مسلمان اور عرب وعجم اسرائيل كے اس ناپاک وجود كوبرداشت نہیں كرتے ليكن لمحه فكريہ يہ ہے كہ آج خليجی حكمرانوں كے نزديک اسرائيل دوست ، پارٹنر اور خطے كا محافظ ہے. اور ظالم استعماری واستكباری قوتوں كے غرور وتكبر كوخاک ميں ملانے والى جماعت اور امت مسلمہ كی عزت وآبرو كی محافظ حزب الله دہشتگرد ہے.يہ امت مسلمہ كے ساتھ بہت بڑی خيانت ہے اور اس كی جتنی بهی مذمت كی جائے كم ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲